تبلیغات
خورشید ولایت - اسلام پسندی ؛ ایک آفاقی اور عمیق جذبہ


ولایت فقیہ نظام ما خامنہ ای امام ما

ABOUT BLOG:


ARCHIVE:


MENU:


LAST POSTS :


LINKS:


SPECIAL PAGES:


AUTHORS:


AP KYA KEHTE HAIN:


STATICS:



Admin Logo themebox

اسلام پسندی ؛ ایک آفاقی اور عمیق جذبہ

1392/10/30-10:43 ب.ظ

اسلامی بیداری

اسلام پسندی ؛ ایک آفاقی اور عمیق جذبہ

ترجمہ: شبیر احمد سعیدی

 

ان لوگوں کا اصلی محرک اسلام پسندی ہے ۔ جوں ہی یہ جنایتکار اپنے ملک سے بھاگ گیا اور صورتحال کنٹرول سے باہر ہوگئی لڑکیوں نے حجاب پہن کر یونیورسٹیوں کا رخ کیا ۔ یہ ایک عمیق اسلامی جذبہ کی عکاسی ہے ۔ مغربی دنیا کے تجزیہ نگار اس حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں اور اس کو چھپانا چاہتے ہیں ۔

 اقوام کو اندھا نہ سمجھیں ! وہ دیکھ رہے ہیں ۔ اس صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور اسی لئے اسلا م کی جانب لوٹ آئے ہیں ۔ اسلامی بیداری اور اسلام کی جانب تمائل میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ۔

اس وقت دنیا میں جو کچھ سننے کو مل رہا ہے وہ یکساں نہیں ہے ۔ سب نعرے کسی ایک خاص حقیقت کی جانب اشارہ نہیں کرتے ہیں ۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے یکساں رویہ نہیں پایا جاتا ہے ۔ لیکن جو کچھ ہماری نگاہ میں محترم ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمان اسلام کی آغوش میں لوٹ رہے ہیں ۔ ملتوں کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی آغوش میں لوٹ آئیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ ماضی میں لوٹنا چاہتے ہیں ۔ اگر خدا کے ارادے سے انقلاب اپنے حقیقی راستے پر قائم ہیں اور سازشوں سے محفوظ رہیں ( اس صورت میں ) آپ کا حقیقی مقصد یہ ہو کہ کس طرح تشکیل نظام ، آئین سازی اور انقلاب و مملکت کے انتظامی امور قرار دیا دیں یا نہیں ؟ یہ وہی عصر جدید میں جدید تمدن کی تشکیل کا حیاتی مسئلہ ہے ۔ وہ تو کہتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں ابھی ڈیموکراسی کا زمانہ نہیں آیا ہے ۔ ان کا یہ دعویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی بیداری اور اسلام کی آغوش میں لوٹنے کی تمنا ( جس کا مرکز اسلامی جمہوریہ ایران اور یہاں کے لوگ ہیں ) منتشر ہو چکی ہے اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے ۔

بیداری اسلامی کے اصول کا محول قرآن و اسلام ۔

اصول اور نعروں کو صیقل دینے کی ضرورت ہے اور ان کو اسلام کے محکم اصولوں پر پرکھنے کی کوشش کی جائے ۔ استقلال ، آزادی ، انصاف طلبی ، ظلم و ستم اور سامراج کے سامنے سر نہ جھکانا ، مذھبی اور قومی و نسلی امتیاز کو ٹھکرانا ، صہیونزم کا انکار ، اسلامی ممالک میں تحریکوں کے یہی اصول ہیں اور ان سب کی جڑیں قرآن اور اسلام میں ہیں ۔

اسلامی ممالک اور ہمارے علاقہ میں اسلام کا محور گفتگو ہونا ۔

خوش قسمتی سے اس خطے میں اسلام ، اسلامی احکام اور اسلامی تعلیمات کی پیروی اور اسلامی شریعت کی تابعداری ( جیسے موضوعات ) کو محوریت حاصل ہے ۔ کچھ ممالک میں انقلاب آیا ، تحریک نے جنم لیا اور لوگوں نے نعرے لگائے ۔ دوسرے ممالک میں بھی اگر چہ بظاہر ایسا نظر نہیں آرہا ہے لیکن باطن میں لوگ یہی چاہتے ہیں ۔ انسان اس کی نشانیوں کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ وہی آپ (ایرانی عوام ) کی طرز فکر ہے اور یہ ہی آپ کی تحریک ہے ۔

اسلامی بیداری   یعنی اسلامی احکام کی جانب بازگشت 

آج لوگوں کو اسلامی احکام کی ضرورت ہے ۔ مسلمان اقوام کا کیا ذکر غیر مسلمان اقوام بھی اسلامی احکام کے محتاج ہیں ۔ ان اقوام کو آپ دیکھ لیں عالمی طاقتوں کے بوجھ تلے ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور شدید تکلیف میں مبتلا ہیں اس کی وجہ اسلام سے دوری ہے ۔ اسلامی بیداری ہی اقوام کو نجات دے سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج مختلف ممالک میں ذہین ترین افراد راہ اسلام ( وہی راہ جس کی جانب قرآن رہنمائی کرتا ہے ) کے طالب ہیں کیونکہ یہ عزت اور رہائی کا راستہ ہے ۔

اسلامی بیداری اسلم کی عزت اور اقتدار کا سبب ۔

عالم اسلام کے اطراف و اکناف میں یہ تحریکیں بلاشبہ جاری رہنے والی ہیں ، آگے بڑھنے والی تحریکیں ہیں ۔ ملتیں ایک ایک کر کے بیدار ہو رہی ہیں ۔ سامراج کے آلہ کار حکمران ایک ایک کر کے میدان چھوڑ دیں گے اور انشاء اللہ اسلام کی شان و شوکت اور اقتدار میں اضافہ ہو گا ۔

اسلامی تحریک کا مقصد؛ اسلامی اور قرآنی حکومت کا قیام

عالم اسلام میں اسلامی تحریک کے لئے شیعہ سنی کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ؛ شافعی ، حنبلی ، حنفی جعفری ، مالکی و زیدی کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ، ایرانی و عربی وغیرہ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔ اس بڑے میدان میں سب موجود ہیں ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دشمن کو تفرقہ اندازی سے باز رکھیں ۔ آپس میں بھائی چارے کی فضا قائم کریں اور اپنے مقصد کا یقین کریں ۔ ہمارا مقصد اسلام ہے ، قرآن اور اسلام کی حاکمیت ہے ۔ اسلامی ممالک کے درمیان جس طرح مشترکات ہیں اسی طرح کچھ تفاوت بھی ہے سارے اسلامی ممالک کے لئے ایک واحد نمونہ موجود نہیں ہے ۔ مختلف ممالک میں جغرافیائی ، تاریخی ، سماجی صورتحال مختلف ہے لیکن بنیادی اصول مشترک ہیں ۔ ہم سب سامراج کے دشمن ہیں ہم سب مغربی دنیا کے ظالمانہ اور خائنانہ تسلط کے خلاف ہیں ، ہم سب اسرائیل نامی ناسور کے مخالف ہیں ۔

اسلام کی راہ میں مبارزہ اور دوران اسلام کا آغاز ۔

خداوند سبحان کے ارادے سے اقوامِ  عالم بیدار ہوچکی ہیں ، یہ عصر ِ اسلام ہے اور اقوام کے دن آچکے ہیں اور اس کے اثرات پوری انسانیت پر مرتب ہوں گے ۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ واشنگٹن ، لندن، روم ، میڈرڈ اور آٹن میں نوجوان نسل اور روشن فکر طبقہ تحریر اسکوائر سے الہام لے کر میدان میں آیا ہے ؟ عالم اسلام کے سب سے حساس خطے میں اسلامیت ، عزت طلبی ، خودی اور آزادی کی تحریک کا بول بالا ہے اور ہر جگہ اللہ اکبر کی گونج ہے ۔ اقوام ِ عرب آمریت سے نفرت کرتے ہیں ، اغیار کے پٹھو حکمرانوں اور طاغوتی حکومتوں کو مزید برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔ غربت ، پسماندگی ، ذلت اور وابستگی سے تنگ آچکے ہیں ۔ وہ سیکولرازم کو سوشلزم ، لیبرلزم اور نیشنلزم کے سائے میں آزما چکے ہیں اور ان سب مکاتب فکر سے مایوس ہیں ۔ ہاں یہ بات بھی صحیح ہے کہ اقوام ِ عرب اسلامی لیبل کے ساتھ انتہا پسندی ، مذہبی تشدد، رجعت پسندی ، فرقہ پرستی اور سطحیت کے بھی مخالف ہیں ۔

نتیجہ

·       خطہ میں اسلامی بیداری کی سب سے بنیادی اور ممتاز خصوصیت اسلام کی جانب باز گشت ہے ۔

·       لوگوں کا اصل مطالبہ بھی یہی ہے کہ اسلامی اقدار اور سیاسی اجتماعی اسلام حاکم ہو ۔

·       ان انقلابوں کے نعروں کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی جڑیں بھی اسلام اور قرآن میں ہیں ۔

·       اسلام کی جانب باز گشت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تشخص ، اسلامی حیات اور اسلامی تہذیب کی جانب موڑا جائے ۔

·       دینداری کے خلاف سینکڑوں سال کی سازشوں کے بعد آج اسلام کھل کر اور بے پردہ لوگوں کا مطالبہ بن چکا ہے ۔

·       اسلامیت کا میدان بہت وسیع ہے  اور اسلام پسندی کی یہ لہر تمام اسلامی ممالک بلکہ ایک وسیع تناظر میں   ان تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے گی ۔

·       اسلامیت اور اسلام پسندی کی یہ لہر ( تیسری لہر ) امپریالزم ، سرمایہ داری نظام اور دیگر مغربی اصولوں کی سر نگونی کے ساتھ ہی یورپ کے مرکز ، امریکہ اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جائے گی ۔ اس تحریک کا ہراول دستہ وال اسٹریٹ پر اس کا روشن ثبوت ہے ۔

·       اسلامیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسے بیانات اور ۔۔۔۔۔۔جاری کیے جائیں جن میں اسلام کے نظری اصول اور سیاسی بنیادوں کی وضاحت ہو اور ایک منسجم اسلامی نظام کے خدو خال بیان ہوں بلکہ اس بیداری کے ذریعے لوگوں کا اسلامی تشخص کی جانب عمومی رجحان ہی اسلامی بیداری کا اصلی خاصہ ہے ۔

·       9 ۔ اس خطے کے ممالک میں اسلام ہی محور گفتگو ہے اور ہر دوسرا موضوع پس منظر میں چلا گیا ہے ۔

·       10۔ اسلامی اقوام کی بنیادی ضرورت اسلامی بیداری یعنی اسلامی احکام کی جانب بازگشت ہے ۔ اور یہی تنہا راہ نجات اور باعث عزت ہے صاحبان فہم و فراست اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔

 



آپ کی رائے() 
LAST EDITING:1392/10/30 10:45 ب.ظ

hydroponics
1396/11/30 10:10 ق.ظ
سلام، تمام وقت من برای بررسی پست های وب سایت اینجا در اوایل شکستن استفاده می شود
از روز، به همین دلیل است که من دوست دارم بیشتر یاد بگیرم
و بیشتر.
How do you get rid of Achilles tendonitis?
1396/05/17 04:01 ب.ظ
I loved as much as you'll receive carried out right here.
The sketch is attractive, your authored material stylish. nonetheless,
you command get got an shakiness over that you wish be delivering the
following. unwell unquestionably come more formerly again since exactly the same
nearly a lot often inside case you shield this hike.
 
لبخندناراحتچشمک
نیشخندبغلسوال
قلبخجالتزبان
ماچتعجبعصبانی
عینکشیطانگریه
خندهقهقههخداحافظ
سبزقهرهورا
دستگلتفکر