تبلیغات
خورشید ولایت - تاریخی تبدیلی کی ماہیت


ولایت فقیہ نظام ما خامنہ ای امام ما

ABOUT BLOG:


ARCHIVE:


MENU:


LAST POSTS :


LINKS:


SPECIAL PAGES:


AUTHORS:


AP KYA KEHTE HAIN:


STATICS:



Admin Logo themebox

تاریخی تبدیلی کی ماہیت

1392/10/21-04:34 ب.ظ

اسلامی بیداری

تاریخی تبدیلی کی ماہیت

ترجمہ: شبیر احمد ملا

خداوند سبحان اور اس کی لا زوال قدرت کی جانب توجہ اور وحی الہی پر اعتماد

پورے عالم میں ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اس دور کی سب سے بڑی اور روشن نشانی خداوند سبحان کی جانب توجہ ، اس کی لایزال قدرت سے مدد کی درخواست اور وحی الہی پر بھروسہ ہے ۔

انسانیت نے مادی مکاتب فکر کو اب پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ اس وقت نہ مارکسیزم میں میں کوئی کشش ہے اور نہ ہی مغرب کی لبرل ڈیموکریسی میں کوئی جذابیت باقی رہ گئی ہے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے مرکز یعنی امریکہ اور یورپ میں کیا کچھ ہورہا ہے ۔ وہ اپنی ناکامی کا خود ہی اعتراف کررہے ہیں ۔ سیکولر قوم پرستی بھی اپنی کشش کھوچکی ہے ۔ اس وقت امت  مسلہ کے یہاں سب سے زیادہ اسلام ، قرآن اور مکتب ِ وحی کو پذیرائی مل رہی ہے ۔

خداوند عزیز کا وعدہ ہے کہ اسلام ہی انسانیت کے لئے سعادت بخش آئین ہے ۔ موجودہ صورت حال عدیم المثال، مبارک اور بامعنی ہے ۔

ملکی اور بین الاقوامی آمریت کے خلاف قیام

اس وقت اسلامی ممالک میں آمریت کے خلاف جدوجہد شروع ہوچکی ہے ۔ یہ جدوجہد اس عالمی اور بین الاقوامی آمریت کے خلاف قیام کا مقدمہ ہے جو سامراجی قوتوں اور خبیث و فاسد صہیونی نیٹ ورک پر مشتمل ہے ۔ یہ جو ہم نے تاریخی موڑ کی بات کی ہے وہ اسی آمریت سے اقوام ِ عالم کی رہائی اور معنوی اور الہی اقدار کی حاکمیت کا نام ہے ۔ یہ ہوکر رہے گا ، شک نہ کریں !

عصر ِ اسلام اور اقوام کا دور

خداوند سبحان کے ارادے سے اقوامِ  عالم بیدار ہوچکی ہیں ، یہ عصر ِ اسلام ہے اور اقوام کے دن آچکے ہیں اور اس کے اثرات پوری انسانیت پر مرتب ہوں گے ۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ واشنگٹن ، لندن، روم ، میڈرڈ اور آٹن میں نوجوان نسل اور روشن فکر طبقہ تحریر اسکوائر سے الہام لے کر میدان میں آیا ہے ؟ عالم اسلام کے سب سے حساس خطے میں اسلامیت ، عزت طلبی ، خودی اور آزادی کی تحریک کا بول بالا ہے اور ہر جگہ اللہ اکبر کی گونج ہے ۔ اقوام ِ عرب آمریت سے نفرت کرتے ہیں ، اغیار کے پٹھو حکمرانوں اور طاغوتی حکومتوں کو مزید برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔ غربت ، پسماندگی ، ذلت اور وابستگی سے تنگ آچکے ہیں ۔ وہ سیکولرازم کو سوشلزم ، لیبرلزم اور نیشنلزم کے سائے میں آزما چکے ہیں اور ان سب مکاتب فکر سے مایوس ہیں ۔ ہاں یہ بات بھی صحیح ہے کہ اقوام ِ عرب اسلامی لیبل کے ساتھ انتہا پسندی ، مذہبی تشدد، رجعت پسندی ، فرقہ پرستی اور سطحیت کے بھی مخالف ہیں ۔

یہ صدی اسلام کی صدی ہے ، یہ معنویت کی صدی ہے ۔ اقوام ِ عالم کے لئے عقلیت ، معنویت اور عدل و انصاف اسلام کا گرانقدر تحفہ ہے ۔ اسلام ہمیں جن تعلیمات کی جانب دعوت دیتا ہے اس میں عقلیت پسندی ہے ، یہ فکر و تدبر کا اسلام ہے ۔ معنویت ، خدا کی جانب توجہ اور اس کی ذات پر توکل کا دین ہے ۔ یہ جدوجہد ، سعی و تلاش اور آگے بڑھنے کا اسلام ہے ۔

دنیا کی دگرگونی

اسلام اپنی بے مثال پیشقدمی کے دوران اس وقت ایک حساس مرحلہ میں داخل ہوچکا ہے۔ آنے والی نسلیں بہت ہی خطیر اور ناقابل یقین واقعات کا مشاہدہ کریں گی ۔ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی ۔ یہ مادیت پسند سامراجی سیاست جس کی وجہ سے اقوام عالم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں آہستہ آہستہ نابود ہوجائے گی ، خاک میں مل جائے گی۔ یہی اس دنیا کا مقدر ٹھہرا ہے اور اس کا محور و مرکز بھی یہیں پر ہے ، اس کی بنیاد بھی یہیں پر رکھی ےگئی تھی اور یہ ملت آج بھی میدان میں ماضی کی طرح کھڑی ہے ۔ جی ہاں ! راز یہی استقامت اور مزاحمت ہے ۔

عالمی سامراج کا پاش پاش ہوجانا

 آج بھی وعدہ الہی ہم سے یہی کہتا ہے : اے بہادر اور صاحب استقامت قوم ! تم ہی وہ قوم ہو جس نے ان ساری سازشوں کا مقابلہ کیا ہے ، تم اب کندن بن چکے ہو ۔ اے شہیدوں کے والدین ! اے شہداء اور مجاہدین کی کفالت کرنے والو! اے ملک کے طول و عرض میں رہنے والے صاحبانِ ایمان ! خدا اور قرآن پر ایمان رکھنے والے لاکھوں خواتین و حضرات ! تم نے  جس طرح ماضی میں استقامت کا مظاہرہ کیا آج بھی اپنی راہ میں استوار ہو تم نے جس طرح اپنے وطن کو عالمی لٹیروں کے چنگل سے چھڑایا ہے ۔ اور آوارہ کتوں اور بھیڑیوں کے ہاتھ کاٹ کر رکھ دئےہیں ۔ تم نے جس طرح مسلط کردہ جنگ سے نمٹ لیا ہے ۔ اور اقتصادی پابندیوں کو شکست فاش دی ہے ، تم نے جس طرح الحمداللہ آج تک ان مشکلات کا سامنا کیا ہے اور بہت سنگین خطرات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ اگر آپ انقلابی میدانوں میں اسی اتحاد، ایمان اور استقامت کے راستے پر قائم رہے، اگر خط امام کے ساتھ اسی وفا داری اور عالمی سامراج لٹیروں سے بے خوفی کا یہی مظاہرہ کیا تو ( جان لیں ) کہ خدا وند کریم کے فضل و کرم سے دوسرے اہداف و مقاصد بھی حاصل ہو جائیں گے ۔ ان میں سے ایک مقصد عالمی سامراج کی شکست و ریخت کا  ٹکڑے ٹکڑے ہونا اور نوبود ہو جانا ہے۔ یہ خدا کا وعدہ  ہے اور وعدہ الٰہی بلا شک پورا ہو کر رہے گا اگر چہ دنیا میں بہت سارے لوگ ایسا نہیں چاہتے ۔

یہ وہی منظر نامہ ہے جو امید بخش ہے اور یہ وہی امید کی شمع ہے جو انتظار فرج کے حوالے سے اسلامی تعلیمات نے ہمارے وجود میں روشن کی ہے ۔ انشاء اللہ ایک ایک کر کے روشن افق اس ملت کے سامنے ظاہر ہوں گے جو آہستہ آہستہ جانب منزل گامزن ہے ۔

نتیجہ

·       امریکہ اور یور پ قلب میں اٹھی حالیہ عوامی تحریک اور خطہ میں اسلامی بیداری ایک عظیم تبدیلی کلی نوید ہے ۔

·       امام خامنہ ای کی نظر میں عالمی بیداری اور اسلامی بیداری ایک تاریخی حقیقت ہے جو ہمارے لئے ایک تاریخی تبدیلی اور ایک نئے دور کی بشارت ہے ۔

·       اسلامی بیداری ملتوں کا حتمی مقدر ہے ۔

·       یہ بیداری وہ صورتحال ہے جو کبھی کبھار دو یا تین صدیاں گذرنے کے بعد دیکھنے کو ملتی ہے ۔

·       گذشتہ   صدی میں پیش آنے والے واقعات اور تبدیلیوں کی بہ نسبت یہ بیداری کئی جہاتسے مختلف ہے اور اسی تفاوت نے بیداری کی حقیقت کو ایک نیا روپ دیا یہ بیداری ہماری تاریخ کا ایک بے مثال باب ہے ۔

·       یہ انقلابی تبدیلی میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کی مانند ہے  بلکہ اسی کا تسلسل ہے ۔

·       اس اسلامی بیداری کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے اور یہ تحریک تاریخ میں باقی رہے گی ۔ اور امت مسلمہ کی تاریخ میں ایک نئے باب کی حیثیت سے لکھی جائے گی ۔

·       امام خامنہ ای کے بیانات سے اور جن آیات سے وہ استدلال فرماتے ہیں ان سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ان کی نظر میں اس تبدیلی اور تحریک میں آخرالزمان کی تاریخ میں مماثلت پائی جاتی ہے ۔

·       اس حصے کے آخری مطالب اور آنے والے مطالب اس تجزیہ کی تائید کرتے نظر آتے ہیں ۔

 

 



نظرات() 
LAST EDITING:1392/10/21 04:35 ب.ظ

 
لبخندناراحتچشمک
نیشخندبغلسوال
قلبخجالتزبان
ماچتعجبعصبانی
عینکشیطانگریه
خندهقهقههخداحافظ
سبزقهرهورا
دستگلتفکر