تبلیغات
خورشید ولایت - متقین کی چھ صفات


ولایت فقیہ نظام ما خامنہ ای امام ما

ABOUT BLOG:


ARCHIVE:


MENU:


LAST POSTS :


LINKS:


SPECIAL PAGES:


AUTHORS:


AP KYA KEHTE HAIN:


STATICS:



Admin Logo themebox

متقین کی چھ صفات

1392/10/17-12:02 ق.ظ

درس قرآن[۱]

متقین کی چھ صفات

 

 

ذٰلِكَ الكِتابُ لا رَیبَ ۛ فیهِ هُدًى لِلمُتَّقین.
الَّذینَ یُؤمِنونَ بِالغَیبِ وَیُقیمونَ الصَّلاةَ وَمِمّا رَزَقناهُم یُنفِقونَ.
وَالَّذینَ یُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَیكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ وَبِالآخِرَةِ هُم یوقِنونَ.
[سورہ بقرہ۔۲،۳،۴]

 

یہ وہ عظمت والی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں پایا جاتا۔یہ متقین[پرہیزگاروں]کے لئے  ہدایت ہے۔یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالی ٰ نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔اور وہ لوگ جو اُن چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی ہیں اور  وہ لوگ جوآخرت[قیامت]پر ایمان رکھتے ہیں۔

·       متقین قرآن مجید سے ضرور ہدایت پائیں گے

تقوے کا مطلب بچنا ہے۔البتہ تقوا ایک جگہ بیٹھ کر بچاو کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان سب کچھ کرے لیکن اپنے آپ کو بچا کر بھی رکھے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو بچانے کے لئے گھر میں جا کر بیٹھ جاتا ہے کہ اگر باہر نکلوں گا تو چوٹ لگ چائے گی،گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوسکتا ہے،یا کسی جھاڑیوں والے راستے سے گزروں گا تو ہاتھ پیر میں کانٹے  چبھ جائیں گے یہ بھی ایک قسم کا بچاو ہے لیکن اسلام ہم سے یہ نہیں چاہتا بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کے اندر رہو،سماج کے ساتھ رہو زندگی کی مشکلات اور تمام حالات کا سامنا کرو اور ان سب کے ساتھ ان چیزوں سے بچو جن سے بچنا چاہیے جیسے ایک ڈرائیور جب گاڑی چلاتا ہے تو اس بات کا بھی دھیان رکھتا ہے کہ ایکسیڈنٹ نہ ہوجائے اس لئے بچ بچ کے چلتا ہے اسی طرح زندگی کی گاڑی کو چلانا ہے لیکن تقوے کے ساتھ۔یہاں قرآن مجید نے " هُدًى لِلمُتَّقین " فرمایا ہے " هُدًى لِلمُو مِنِینَ " نہیں فرمایا یعنی ممکن ہے ایک شخص کے پاس دین اور ایمان ہو لیکن تقوا نہ ہو تو قرآن اس کی ہدایت نہیں کرتا بلکہ قرآن سے ہدایت کے لئے تقوا ضروری ہے۔

·       متقین کی صفات

ان آیتوں میں متقین کی چھ صفات بیان ہوئی ہیں جن کے اندر یہ چھ چیزیں پائی جاتی ہوں گی وہ صحیح متقی ہوں گے۔البتہ ان میں سے جس کے اندر جتنی چیزیں ہوں گی اس کے اندر اتنا ہی تقوا ہوگا اور وہ اسی حساب سے قرآن سے ہدایت حاصل کرے گا۔اور یہ چیزیں انسان کے اندر جتنی زیادہ آتی جائیں گی اتنا زیادہ تقوا بھی آئے گا اور اتنی ہی ہدایت بھی پائے گا۔ممکن ہے کسی انسان کے اندر یہ ساری چیزیں پائی جاتی ہوں اور اس کے بعد بھی تقوے میں آگے بڑھتا رہے تو اسے اسی حساب سے قرآن سے ہدایت بھی ملتی رہے گی۔

اب ہم ان چیزوں کو بیان کریں گے جو تقوے کے لئے ضروری ہیں:

۱۔غیب پر ایمان

سب سے پہلی چیز کیا ہے؟ " یُؤمِنونَ بِالغَیبِ "وہ لوگ تم غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔غیب پر ایمان کی بات قرآن مجید میں کئی جگہ آئی ہے جیسے ایک جگہ آیا ہے" وخَشِیَ الرَّحْمَن بِالْغَیْبِ "[سورہ یاسین/۱۱]اور اس طرح کی دوسری آیتیں  جن میں غیب کی بات کی گئی ہے۔قرآن مجید میں دنیا وی چیزوں کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے بعض وہ چیزیں جنہیں ہم دیکھتے ہیں،سمجھ سکتے ہیں یا ان کے بارے میں جان سکتے ہیں اور ان تک پہنچ سکتے ہیں چاہے چاند ،مریخ اور ستاروں کی دنیا ہو یا وہ چیزیں جنہیں ہم مائکرواسکوپ یا ٹلسکوپ کے ذریعہ دیکھ سکتے ہیں  اسے "عالم شہود " کہتے ہیں ۔اور بعض وہ چیزں ہیں جنہیں ہم دنیا کی کسی چیز کے ذریعہ سمجھ  نہیں سکتے بلکہ وہ اس سے آگے کی چیز ہے اسے "غیب "کہتے ہیں۔قرآن کی نظر میں بعض چیزوں کو انسان جان اور سمجھ سکتا ہے لیکن بعض چیزوں ان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح وہ دنیا کی ساری چیزوں کوجانتا اور مانتا ہے۔ بعض  لگ غیب کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں جو چیز ہمیں نظر نہ آئے اور ہم اسے محسوس نہ کرسکیں وہ نہیں ہے۔جبکہ یہ صحیح نہیں ہے انسان اسی چیز کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے جسے ثابت کرسکتا ہو اگر وہ کہتا ہے کہ فلا ں چیز ہے تو اس کے لئے ثبوت پیش کرتا ہے  لیکن جب کسی چیز میں بارے میں یہ کہتا ہے کہ نہیں ہے تو اس کے نہ ہونے کو کیسے ثابت کرے گا۔انسانی دماغ اور انسانی علم کسی چیز کو ثابت تو کرسکتاہے لیکن اسے جھٹلا نہیں سکتا کیونکہ جس چیز کے بارے میں وہ جانتا نہیں اس کے بارے میں وہ کیسے کہہ سکتا ہے وہ ہے ہی نہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم۔اسی لئے ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں،یا میڑیالسٹ ہیں قرآن کہتا ہے یہ غیب کا انکار کرتے ہیں جبکہ انہیں اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔"وَإِنْ هُمْ إِلاَّ یَظُنُّونَ "[سورہ بقرہ/ ۷۸] یہ ایسا خیال کرتے ہیں ورنہ انہیں اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔

۲۔نماز قائم کرنا

دوسری شرط جو تقوے کے لئے بیان کی گئی ہے وہ ہےنماز " وَیُقیمونَ الصَّلاةَ "وہ نماز قائم کرتے ہیں۔نماز قائم کرنے اور نماز پڑھنے میں فرق ہے۔نماز قائم کرنا یعنی نماز کو توجہ کے ساتھ پڑھنا،اس کے معنی[meanings] پر توجہ دینا ،اسے اپنی زندگی میں ڈھالنا،دوسروں کو نماز کی طرف بلانا،سماج کو نمازی بنانا۔یعنی جب انسان نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس کے دماغ میں یہ بات ہو کہ وہ خدا کے سامنے کھڑا ہونے جارہا ہے،وہ خدا کا حکم پورا کرنے جارہا ہے۔

·       ۳۔خدا کے راستے میں خرچ کرنا

ایک شرط یہ ہے" وَمِمّا رَزَقناهُم یُنفِقونَ "خدا نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے اس کے راستے میں کرچ کرتے ہیں۔البتہ یہاں اپنے لئے خرچ کرنا مراد  نہیں ہے وہ تو سبھی کرتے ہیں ،وہ بھی کرتے ہیں جو خدا کو نہیں مانتے بلکہ کسی بھی چیز کو نہیں مانتے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں میں خرچ کرتے ہیں جن کے لئے خدا نے کہا ہے۔اس راستے میں خرچ کرتے ہیں جس کے لئے خدا کا حکم ہے۔

·       ۴ و۵۔پیغمبر اسلام اور دوسرے پیغمبروں پر ایمان

" وَالَّذینَ یُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَیكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ "جو آپ [پیغمبر اسلام]اور ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوا۔یہا ں اس چیز کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ  وحی پر ایمان رکھتے ہیں چاہے وہ پیغمبر اسلام پر نازل ہونے والی وحی ہو یا ان سے پہلے نبیوں پر نازل ہونے والی ہو۔یعنی تقوا کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان وحی پر ایمان رکھتا ہو ممکن ہے ایک انسان خدا کو تو مانتا ہو لیکن وحی کو نہ مانتا ہو اسی لئے قرآن میں کئی جگہوں پر پیغمبر کی اطاعت واجب کیا گیا ہے" أَطِیعُواْ اللّهَ وَأَطِیعُواْ الرَّسُولَ "[سورہ نساء/۵۹] خدا کی  اطاعت کرو ،اس کے رسول کی اطاعت کرو ۔جس نے پیغمبر کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور پیغمبر کی اطاعت اسی وقت ہوسکتی ہے جب وحی کو مانتا ہو۔ اسی طرح رسول اسلام سے پہلے انبیا اور ان پر نازل ہونے والی وحی کو بھی مانتا ہو۔

·       ۶۔قیامت پر یقین

" وَبِالآخِرَةِ هُم یوقِنونَ " اور وہ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تقوا کی ایک پہچان  قیامت پر ایمان اور یقین ہے۔یہ تقوا کی سب سے زیادہ اہم [important]شرط ہے اسی لئے یہاں قیامت اور آخرت پر ،یقین کی بات کی گئی ہے یعنی  صرف گمان کافی نہیں ہے۔اسلامی عقائد میں کوئی بھی عقیدہ ایسا نہیں ہے جس کا زندگی میں کوئی رول نہ ہوبلکہ ہر عقیدہ  کا انسان کی زندگی میں اثر اور رول ہے۔دین کا ایک کام یہ ہے کہ وہ انسانوں کے دل اور دماغ میں یہ بات ڈالے کہ ان کی زندگی مرجانے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ مرنے کے بعد بھی ایک زندگی ہے۔البتہ اس زندگی کا اس زندگی سے کافی گہرا سمبندھ  ہے اس دنیا میں ہم جو عمل کریں گے وہاں اس کا حساب دینا ہوگا یعنی جو یہاں بوئیں گے وہ وہا ں کاٹیں گے۔



نظرات() 
LAST EDITING:1392/10/17 12:03 ق.ظ

Why is my Achilles tendon burning?
1396/06/18 10:04 ق.ظ
This site was... how do you say it? Relevant!!
Finally I've found something that helped me. Thanks!
Foot Problems
1396/05/15 11:39 ب.ظ
I do agree with all of the concepts you have introduced on your post.
They're very convincing and will definitely work.
Nonetheless, the posts are very short for beginners. Could you
please prolong them a bit from next time? Thanks for the post.
vit d and foot pain
1396/04/17 07:42 ق.ظ
You can definitely see your expertise within the paintings you write.

The world hopes for even more passionate writers such as you who aren't
afraid to say how they believe. At all times follow your heart.
susanfegarly.wordpress.com
1396/03/3 06:52 ب.ظ
Hey there! I've been reading your web site for a long time now and finally got the bravery to go
ahead and give you a shout out from Huffman Tx!

Just wanted to mention keep up the fantastic job!
std clinics near me
1396/02/26 05:18 ق.ظ
بسیار چلیپا از خود نوشتن در حالی که صدایی مناسب در آغاز آیا نه نشستن کاملا با من پس از برخی از زمان.
جایی درون پاراگراف شما در واقع موفق
به من مؤمن اما فقط برای کوتاه در حالی
که. من این کردم مشکل خود را با جهش در
مفروضات و یک ممکن است را
خوب به کمک پر کسانی که شکاف.
در صورتی که شما که می توانید
انجام من خواهد قطعا بود در گم.
Marlon
1396/02/26 02:14 ق.ظ
This paragraph is truly a pleasant one it helps new the web people, who are wishing for blogging.
Kellye
1396/02/25 09:20 ق.ظ
Great post. I was checking continuously this blog and I am impressed!

Very helpful information specially the last part :) I care for such info a lot.
I was seeking this certain info for a very long time.
Thank you and good luck.
Shelley
1396/02/25 03:39 ق.ظ
Glad to be one of many visitants on this awing internet site :
D.
 
لبخندناراحتچشمک
نیشخندبغلسوال
قلبخجالتزبان
ماچتعجبعصبانی
عینکشیطانگریه
خندهقهقههخداحافظ
سبزقهرهورا
دستگلتفکر