تبلیغات
خورشید ولایت - خورشید ولایت


ولایت فقیہ نظام ما خامنہ ای امام ما

ABOUT BLOG:


ARCHIVE:


MENU:


LAST POSTS :


LINKS:


SPECIAL PAGES:


AUTHORS:


AP KYA KEHTE HAIN:


STATICS:



Admin Logo themebox

خورشید ولایت

 

خورشید ولایت کو الفاظ کے آئینے میں منعکس نہیں  کیا جا سکتا البتہ حتی المقدور کوشش کی جا سکتی ہے کہ اس کے جمال و کمال کا ایک جلوہ دکھایا جا سکے۔اس تحریر کے فریم میں اُس مرد خدا کی کمالات سے بھر پور زندگی کی تصویر دکھائ جا رہی ہے  جوعترت اطہار کی نسل کا ایک پاکیزہ انسان،قبیلہ اہل بیت کا ایک سید ،علی و زہرا کا فرزند،کاروان تشیع کا ایک مسافر، سرزمین کربلا کا پیغمبر،چاہ تنہائی سے درد دل بیان  کرنے والا،بے درد افراد کی بستی میں ایک اجنبی،جاہلوں کی تیغ جفا کا زخم خوردہ،تنگ نظر حاسدوں کے حسد کا شکار،جاں بکف عاشقوں کا محبوب،حسنی صبر کا ایک مجسم نمونہ،شجرہ حسینی کی ایک غیرتمند شاخ،کہکشان علمائے تشیع کا ایک آفتاب عالم تاب،گلستان آزادی کا سید و سردار،مشہد شہادت کا ایک شاہد،مصلحتوں کی نیام میں ایک ذولفقار اور……

ان تمام ٹکڑوں کو حسن و سلیقہ کے ساتھ  جوڑا  جائے تو ایک ایسے انسان کا آفتابی چہرہ نظر آئے گا جو اقتدار کی معراج پر ہوتے ہوئے مظلوم اور اعلیٰ وارفع مقام و مرتبہ رکھتے ہوئے نہایت متواضع ہے۔

ایک خاکی ولایتمدار اور آسمانی خاکسار،زمانے کے جسم میں امام زمانہ کی روح ،چشمہ فرج کا پیاسا،زمزم جمکران سے سیراب،غازی عباس جیسا علمدارجو ذوالفقار جیسی صلابت رکھتا ہے اور ایسا ہاتھ رکھتا ہے جو علقمہ وفا اور فرات و کربلا کی یاد دلاتا ہے۔

مظلوموں کی پناہ،شکستہ دلوں کے لئے جائے امن و اماں،نا امیدوں کی امید، فرزندان خمینی کا روحانی باپ،  رہروان   راہ علوی   کا   قافلہ  سالار،محاذ مہدوی کا سپاہی،جس کے ہاتھ فداکاری کی علامت،ذمہ دار کاندھوں پر بسیجی چفیہ،مضبوط ہاتھوں میں عصائے توکل اور آنکھوں پر بصیرت کا چشمہ ہے۔

جو مادیات سے پاک و منزہ ایک فقیہ،رہروان راہ شریعت کا رہبر، مرجعیت جس کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی ہے لیکن وہ مرجعیت سے گریزاں ہے۔وہ رہبر جو جانماز و سحر کا چلہ نشیں ،      فکہ و شلمچہ کے محرابوں کا معتکف،وادی شعر و ادب کا شہسوار،فقہ و حدیث سے باخبر،سیرت و تاریخ کے میدان کا غازی،رجال و درایہ پر تنقیدی نگاہ رکھنے والا،اخلاق و تربیت کا ماہر استاد،ترتیل و قرائت میں بے بدیل،میدان سیاست میں یگانہ روزگار،بیان وبلاغت میں بے مثال،رہبری و قیادت کو شرف بخشنے والا اور سیادت و سرداری کا درس دینے والا ہے۔

جوان جس کی نصیحتوں پر ہمہ تن گوش،بوڑھے جس کی جوان روح کے پیاسے،واعظین جس کے بیانات کے خوشہ چین،ذاکرین جس کے ابتکاری نکات سے بہرہ مند،قاریان قرآن جس کی نگاہوں کے منتظراور صاحبان تہجد جس کے اشکوں اور آہ سحرگاہی کے اسیر ہیں۔

اہل ذوق اس کی روح کے شیفتہ،اہل ادب اس کی فکر نو کے شیدائی، اہل دل اس کی شراب معرفت سے مخمور اور مجاہدین اسلام اس کی عاشورائی روح کے مشتاق ہیں۔

اہل قلم اس کے قلم کی قدرت سے حیراں،اہل سخن اس کی جولانئی طبع سے مدہوش،اہل سیاست اس کی سیاسی بصیرت پہ انگشت بدبداں،ماہرین تہذیب و ثقافت اس کے عمق فکر سے حیرت زدہ اور صاحبان مطالعہ اس کی کتابخوانی پر رشک کرتے ہیں۔

ادباء اس کی فصاحت کے گواہ،فقہا اس کی فقہی گہرائیوں کے معترف،اہل ہنر اس کی ہنری ذوق سے مبہوت،شعراء اس کی ظرافت طبع کے گرویدہ اور خطباء اس کے سلاست بیان کے سامنے خم ہیں۔

اس کے مرید اس کی جامعیت   پر مسرور،رہرووں کو اس کی رہبری پر فخر،قائدین اس کے ثبات قدم کے محتاج،سربراہان مملکت اس کے اصول پسندی کے باادب شاگرد اور سائلین اس کی کرامت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

عزت حسینی جس کا مرام،خدمت خلق جس کا پیغام،کار و کوشش جس کی امید،علمی مراکز کی بیداری جس کی توقع،جوانوں کا ایمان جس  کا اعتماد،قومی یکجہتی جس کی آرزو،قم جس کی شیریں یادوں کی جگہ،ایران جس کی امت کا مسکن، امت جس کی امامت کی حامی،محراب جس کی حسینی روح کا محاذ،نماز جمعہ جس کے مقصد کا مورچہ،ولایت فقیہ جس کے امام و استاد خمینی کبیر کا راستہ،اور فقہ و اصول و تفسیر و حدیث کے دروس جس کی فقاہت کی دلیل ہیں۔

یہی و ہ کمالات ہیں جنہوں نے دلوں کو اس کا سیر بنا لیا ہے اور جانیں جس پر قربان ہونے کے لئے کفن بسر کھڑی ہیں۔

یہی ہے نگارستان ولایت کی وہ خوبصورت تصویر جس کے سر پر مہدی فاطمہ حضرت حجت عج اللہ فرجہ الشریف کی نیابت کا تاج ہے۔

خدا کرے یہ خوبصورت تصویر زمانے کی تیز و تند  ہوائوں کے ساتھ اٹھنے والے گرد و غبار سے ہمیشہ محفوظ رہےاور ہم  چراغ ولایت کی روشنی میں عشق و محبت کا راستہ طے کرتے رہیں ۔

اللھم عجل فی فرج مولانا صاحب العصر واحفظ نائب المہدی امامنا الخامنہ ای